سجادہ نشین امیر ملت کا تعارف

سجادہ نشین و جانشین آستانہ عالیہ حضرت امیر ملت علی پور سیداں شریف ضلع نارووال

مرکزی جماعت اہلسنّت برطانیہ کے کے سرپرست اعلیٰ، عالمی مبلغ اسلام، شیخ المشائخ، محسن اہلسنّت، کشتہئ عشق مصطفی، محبوب المشائخ، صاحب طریقت و تصوف، جانشین امیر ملت، مہر الملت حضرت صاحبزادہ پیر سید منور حسین شاہ صاحب جماعتی عصر حاضر کے ولی کامل، مرد درویش، عالم باعمل اور علماء مشائخ اہلسنّت کی مقبول، ہردلعزیز اور محترم شخصیت عصرحاضر میں قرونِ اولیٰ کے اسلاف کی زندہ جاوید تصویر ہیں۔ آپ برطانیہ‘ یورپ و دُنیا کے دیگر ممالک میں نورِاسلام، روحانیت و تصوف و مشن امیر ملت کی روشنیاں پھیلا رہے ہیں۔ آپ دُنیا بھر میں مختلف تنظیموں کے بانی، سرپرست اعلیٰ اور چیئرمین بھی ہیں۔ برطانیہ کی مرکزی جماعت اہلسنّت جب سے معرض وجود میں آئی ہے اس وقت سے سرپرست اعلیٰ ہونے کے علاوہ جماعت کیساتھ ہر طرح کے تعاون کیلئے آپ کی خدمات سرفہرست ہیں‘ اسکے علاوہ متحدہ مجلس مشائخ پاکستان امیر ملت علماء بورڈ جامعہ اسلامیہ امیر ملت، جامعہ جماعتیہ حیات القرآن، جامعہ اسلامیہ امیر ملت لالہ موسیٰ، جامعہ شاہ جماعت، جامعہ افضل القرآن کے سرپرست اعلیٰ ہیں‘ اسی وجہ سے اہلسنّت میں آپ کو بلند مقام حاصل ہے اور ہر شخص آپ کی گوناگوں صفات کا معترف ہے۔ آپ امیر ملت سنٹر جامع مسجد امیر ملت عالمی مجلس امیر ملت کے بانی اور چیئرمین بھی ہیں۔ انجمن خدام الصوفیہ، امیر ملت ٹرسٹ، مرکزی میلاد کمیٹی ورلڈ جماعت اہلسنّت اور اسلامک ایجوکیشن اینڈ مسلم کمیونٹی سنٹر النور کالج و سکول امیر ملت کمیونٹی سنٹر، آل پاکستان مشائخ کونسل، سنی اتحاد کونسل، اسلامک ٹی وی، امیر ملت یونٹی ٹی وی چینل برطانیہ کے چیئرمین بھی ہیں۔ آپ کا تعلق بر صغیر کے ایک عظیم الشان مذہبی اور روحانی خانوادے سے ہے۔ آپ اپنے خاندان کی فعال، متحرک اور انقلابی شخصیت کے طور پر اُبھرے ہیں۔ آپ مذہب و سیاست، علم وادب، شریعت و طریقت اور حقیقت و معرفت کے آسمان پر آفتاب و ماہتاب بن کر چمکے ہیں۔ اعلیٰ حضرت امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ صاحب محدث علی پوری رحمۃ اللہ علیہ آپ کے پردادا تھے جبکہ آپ کے والد محترم جوہر الملت الحاج الحافظ علامہ پیر سید اختر حسین شاہ صاحب امیر ملت کے تین صاحبزادگان میں سے سب سے بڑے صاحبزادے بحرالعلوم سراج الملت حافظ پیر سید محمدحسین شاہ صاحب کے بڑے صاحبزادے تھے۔ پیر سید منور حسین شاہ صاحب جماعتی علی پور سیداں (پہلے ضلع سیالکوٹ) اب ضلع نارووال میں 19 فروری 1958ء کو پیدا ہوئے۔ آپ کی تمام تر تربیت آپ کے چچا جان گوہر الملت الحاج الحافظ پیر سید انور حسین شاہ صاحب نے کی کیونکہ اُن کے اولاد نرینہ نہیں تھی، اس وجہ سے سید منور حسین شاہ صاحب کے والد گرامی پیر سید اختر حسین شاہ صاحب نے انہیں اپنے بھائی پیر سید انور حسین شاہ صاحب کا متبنٰی بنایا تھا۔

آپ کے جدامجد اعلیٰ حضرت امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے خاندان عالیہ کا تعلق سادات شیراز سے ہے‘ آپ کے اجداد میں حضرت سید محمدنوروز شاہ صاحب وہ بزرگ ہیں جو سلطنت مغلیہ کے تاجدار ہمایوں کی استدعا پر اس خطہ میں تبلیغ دین و اشاعت اسلام اور اس کی روحانی امداد کیلئے شیراز سے تشریف لائے اور علی پور سیداں میں اقامت گزین ہوئے۔ شہنشاہِ ہند نے آپ کے خدام کی ضروریات کی تکمیل کیلئے پسرور سے 9میل کے فاصلے پر ایک سرسبز قطعہ اراضی آپ کی خدمت عالیہ میں نذر کیا‘ یہی وہ مبارک سرزمین ہے جسے اعلیٰ حضرت امیر ملت رحمۃ اللہ علیہ کے مسکن اور پھر مدفن بننے کا شرف حاصل ہوا۔ آپ ہی کے فیض و برکت سے علی پور سیداں دُنیا بھر میں مشہور و معروف ہے۔ امیر ملت نجیب الطرفین و صیح النسب سید ہیں اور سلسلہ نسب کے لحاظ سے حضرت امیرالمومنین سیدنا علی ابن ابی طالب زوج سیدۃ النساء فاطمۃ الزاہرا ؑ کی اڑتیسویں پشت میں ہیں۔ پیر سید منور حسین شاہ جماعتی کے دادا پیر سید محمدحسین شاہ صاحب کے بعد حضرت پیر سید نورحسین شاہ صاحب سجادہ نشین ثانی مقرر ہوئے، وہی آپ کے پیر و مرشد ہیں۔ 1974ء میں جب پیر منور حسین شاہ جماعتی نے ان کے ہاتھ پر سلسلہ نقشبندیہ میں بیعت کی تو آپؒ نے اسی وقت اپنی دستارِ مبارک مہرالملت کے سر پر رکھ کر خلافت و اجازت سے سرفراز فرمایا۔ اور آپ کے والد گرامی حضرت جوہر الملت پیر سید اختر حسین شاہ صاحب کو بلا کر یہ الفاظ ارشاد فرمائے کہ پیر صاحب میرے پاس جو کچھ تھا، میں نے دیدیا اور مبارکباد دی‘ انہوں نے بھی بڑی خوشی کا اظہار فرمایا۔ پیر سید نور حسین شاہ صاحب آپ کے والد گرامی کے چچا تھے۔ 1978ء میں اُن کی وفات کے بعد پیر سید اختر حسین شاہ صاحب سجادہ نشین مقرر ہوئے‘ پیر منور حسین شاہ جماعتی کے والد گرامی پیر سید اختر حسین شاہ صاحب نے حضرت گوہر الملت پیر سید انور حسین شاہ صاحب کی وفات کے بعد ان کی جگہ خود اپنے ہاتھ سے آپ کی دستار بندی فرمائی اور اُن کی جگہ مقرر فرمایااور آپ نے اپنی دُعاؤں سے نوازا۔ 1981ء میں حضرت پیر سید عبدالمعبود شاہ گیلانی نے جو حضرت غوث پاک کی اولاد میں سے تھے، جنہوں نے 155 سال عمر پائی اور 105 حج کئے، مدینہ منورہ رباط جماعت منزل میں جناب پیر سید مسکین شاہ صاحب کے کمرے میں پیر سید منور حسین شاہ جماعتی کی دستار بندی فرمائی اور چاروں سلاسل کی خلافت و اجازت سے نوازا اور فرمایا کہ پیر صاحب اپنے بھائی سید جماعت علی شاہ صاحب اور حضور غوث پاک کے حکم سے آپ کو چاروں سلاسل کی اجازت بھی دی اور دستار بندی بھی کی ہے۔ اسکے بعد 1982ء میں آپ نے پیر صاحب کو برطانیہ سے جرمنی بلوایا اور ہفتہ عشرہ اپنی صحبت خاص میں رکھا اور بہت سے اور ادو وظائف کی اجازت عطا فرمائی۔ بابا جی شلیانڈی شریف مانسہرہ نے بھی 1984ء میں مدینہ منورہ میں جملہ سلاسل کی خلافت و اجازت اور بہت سے اوراد و ظائف سے سرفراز فرمایا، علاوہ ازیں مدینہ منورہ، مکہ مکرمہ، کویت، دبئی، مصر، الجزائر، عراق، شام، سوڈان، انڈیا اور پاکستان کے اکابر اولیائے کرام نے شفقت خاص سے نوازتے ہوئے اجازتیں مرحمت فرمائیں۔

حصولِ تعلیم کے حوالے سے امیر ملتؒ کی تمام اولاد علم و عمل کا حسین امتزاج ہے، اس خاندان کا بچہ بچہ حافظ قرآن ہے‘ اسی وجہ سے پیر سید منور حسین شاہ جماعتی نے 8سال کی عمر میں حضرت مولانا عبد الرشید جھنگوی سے قرآن پاک حفظ کر لیا اور اسی سال مسجد نورعلی پور سیداں میں سنایا۔ قرأت کی تعلیم لاہور قاری غلام رسول صاحب سے حاصل کی‘ اسی دوران پرائمری تک کی تعلیم بھی حاصل کر لی‘ جسکے بعد درسِ نظامی کا سلسلہ علی پور سیداں شریف میں ہی شروع کیا اور کافی کتابیں والد گرامی پیر سید اختر حسین شاہ صاحب اور باقی کتابیں مفتی غلام رسول صاحب سے پڑھیں‘ پھر سیالکوٹ اور پھر لاہور سے دورہئ قرآن و حدیث مکمل کیا، دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دُنیاوی تعلیم بھی جاری رکھی‘ میٹرک کے بعد جناح اسلامیہ کالج سیالکوٹ میں داخلہ لے لیا، بعدازاں فیصل آباد گورنمنٹ سائنس کالج میں داخلہ لے لیا، وہاں سے ایف ایس سی امتیازی نمبروں سے پاس کی، اس کے بعد بی اے اور ایم اے پنجاب یونیورسٹی سے مکمل کر کے سندات حاصل کیں۔ اسی طرح درس نظامی کے ساتھ فاضل اُردو اور فاضل عربی لاہور سے اور درس نظامی میں ایم اے کی ڈگری وفاق المدارس سے حاصل کی۔ آپ کا ارادہ ڈاکٹر بننے کا تھا لیکن حضرت قبلہ شمس الملت پیر سید نور حسین شاہ صاحب سجادہ نشین ثانی حضرت امیر ملت نے فرمایا کہ پیر صاحب میں چاہتا ہوں کہ آپ دُنیاوی ڈاکٹر نہ بنیں بلکہ روحانی ڈاکٹر بنیں۔ آپ نے فرمایا میں دیکھ رہا ہوں کہ سینکڑوں ہزاروں ڈاکٹر آپ سے فیض حاصل کرینگے‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کو روحانیت کا جو سلسلہ دیا ہے اس سے بڑھ کر ڈاکٹری کیا ہو سکتی ہے، مزید فرمایا کہ آج کے بعد آپ کو یہاں دربار شریف پر رہ کر مخلوقِ خدا اور پیر بھائیوں کی دینی و روحانی خدمت کرنی ہے۔ پیر سید منور حسین شاہ جماعتی کی 1974ء میں پہلی دفعہ مدینہ منورہ حاضری ہوئی تو اسلامک یونیورسٹی مدینہ منورہ میں داخلہ لے لیا‘ چند ماہ کے بعد قبلہ والد صاحب کے حکم پر واپس آ گئے۔ آپ کو مجھے اوائل عمری سے ہی دینی، روحانی اور ملی خدمات کا بہت شوق تھا لہٰذا تعلیم سے فارغ ہونے اور خلافت و اجازت ملنے کے بعد انجمن خدام الصوفیہ قائم شدہ 1901ء کے پلیٹ فارم سے کام کا آغاز کیا اور سب سے پہلے یارانِ طریقت اور پیر بھائیوں کو متحد کرنے اور اس پلیٹ فارم پر کام کرنے کیلئے تمام ملکوں کے تبلیغی دورے کئے۔ پاکستان کے ہر شہر میں امیرملت کانفرنسوں کا انعقاد کیا اور انجمن خدام الصوفیہ کا رسالہ انوار الصوفیہ جوکہ 1904ء سے جاری تھا، دوبارہ شروع کیا‘ اسکے علاوہ چالیس من وزنی قرآن پاک کا کام شرو ع کیا جوکہ سونے سے لکھا جا رہا تھا، مختلف شہروں میں اسکی زیارت اور تقریب رونمائی کے پروگرام کئے جسے عوام الناس کے حلقوں اور بالخصوص یارانِ طریقت میں بڑی پذیرائی حاصل ہوئی۔ حضرت امیر ملت رحمۃ اللہ علیہ کے کارناموں سے عوام الناس، نوجوان نسل اور بالخصوص یارانِ طریقت کو متعارف کرانے کیلئے انجمن جماعتیہ نقشبندیہ قائم کی اور اس کیساتھ ہی انجمن فدایان امیر ملت قائم کی، بعد میں دونوں کو ضم کر کے مجلس امیر ملت قائم کی جسے یورپ اور دیگر ممالک کے دوروں کے بعد عالمی مجلس امیر ملت بنا دیا گیا جسکے تحت اب بھی کام جاری ہے۔ آپ نے 1974ء کی تحریک ختم نبوت، 1977ء کی تحریک نظام مصطفیA، 1985ء کی تحریک یارسول اللہA میں سر گرم اور فعال کردار ادا کر کے یہ ثابت کر دیا کہ امیر ملت کے مشن کی تکمیل ہو کر رہے گی۔ تدریسی خدمات کے حوالے سے آپ نے شاہ عالمی لاہور میں جامعہ جماعتیہ حیات القرآن، شاہدرہ میں جامعہ اسلامیہ امیر ملت، جامعہ افضل القرآن، جامعہ اسلامیہ امیر ملت لالہ موسیٰ و برطانیہ میں امیر ملت سنٹر و جامعہ مسجد امیر ملت ودیگر ادارے قائم کئے‘ اسی طرح خواتین اور بچیوں کیلئے الگ الگ شعبے قائم کئے جن کی شاخیں دیگر علاقوں میں قائم کیں جو آج بھی دینی خدمات سر انجام دے رہے ہیں‘ جہاں ہر سال سینکڑوں لڑکوں و لڑکیوں کو حفظ قرآن اور دورہئ حدیث و قرآن کی اسناد دی جاتی ہیں

آپ 1976ء میں پہلی بار انگلینڈ گئے‘ جہاں چار ماہ قیام کے دوران تمام شہروں کا دورہ کیا، کانفرنسیں کیں اور مختلف تبلیغی پروگراموں میں شرکت کی‘بہت سے لوگ حلقہ بگوش اسلام بھی ہوئے اور بالخصوص یارانِ طریقت سے تعارف اور رابطہ بھی ہوا۔ دوسری مرتبہ 1977ء میں حضرت شمس الملت کے حکم پر برطانیہ گئے۔ حضرت شمس الملت نے فرمایا کہ پیر صاحب برطانیہ اور یورپ کی فضا تبلیغ دین اور اسلام کی اشاعت کیلئے اس وقت بڑی ساز گار ہے اور وہاں اسکی بڑی ضرورت ہے‘ اس وجہ سے میں آپ کو حکم دیتا ہوں کہ آپ ہر سال چند ماہ کیلئے ضرور وہاں جایا کریں۔ آپ نے اسی وقت فرمایا کہ آپ انٹرنیشنل پیر ہیں، اللہ کریم نے آپ سے دین کا بہت سا کام لینا ہے، آپ کو یورپ اور دُنیا کے بہت سے ممالک میں تبلیغ دین اور اشاعت اسلام کا کام کرنا ہے‘ یہ پیر و مرشد کی دُعاؤں کا اثر ہے کہ مہر الملت پیر سید منور حسین شاہ جماعتی کو دُنیا کے پچاس سے زیادہ ممالک میں تبلیغ و اشاعت دین و سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے حوالے سے جانے کا اتفاق ہوا ہے۔ جب آپ پہلے پہل برطانیہ گئے تو اس وقت حالات ایسے نہیں تھے جو آج ہیں‘ اس وقت اسلام کے متعلق لوگوں میں بیداری نہیں تھی، لوگوں کو عیدین، ربیع الاوّل اور دیگر ایام کے حوالے سے معلومات نہیں ہوتی تھیں، گھروں میں جائے نماز تک نہیں ملتی تھی اور نہ یہ پتہ چلتا تھا کہ قبلہ کس طرف ہے، لوگوں میں اسلامی و مذہبی شعور بالکل نہیں تھا، کانفرنسوں اور جلسے جلوسوں کا کوئی تصور نہیں تھا، آپ نے 1977ء میں مانچسٹر، بریڈ فورڈ، برمنگھم، ڈربی، لندن اور دیگر شہروں میں پہلی مرتبہ امیر ملت کانفرنسوں کا انعقاد کیا جن میں پہلی مرتبہ علماء و مشائخ کی خدمت اور عوام الناس کیلئے کھانے کا اہتمام کیا گیا۔ جب برطانیہ میں مشائخ کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا تو اسکے ساتھ ساتھ علماء بھی آنا شروع ہو گئے اور علماء و مشائخ کے وہاں پہنچ جانے کے بعد دین کا پھیلاؤ شروع ہو گیا۔ اب اللہ عزوجل کے فضل و کرم سے برطانیہ میں 1800 سے زائد مساجد ہیں، جگہ جگہ جلسے جلوس اور کانفرنسیں ہوتی ہیں، رمضان المبارک، عیدین اور دیگر ایام کے سلسلہ میں مرکزی جماعت اہلسنّت کا کردار اور خدمات آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں اور اس سلسلہ میں ہمارے علماء کے کارنامے قابل تحسین و صد ستائش ہیں۔ آپ نے برطانیہ میں ایک دن کے دوران اکیس اکیس روحانی محافل ذکر و فکر منعقد کیں، یہ اجتماعات مختلف شہروں میں ہوتے تھے جن میں شرکت کے بعد آپ واپس لندن پہنچ جاتے تھے۔ 1982ء میں، آپ نے برمنگھم اور دیگر شہروں میں عالمی نعت کانفرنسیں منعقد کروائیں جنہیں عوام الناس میں بڑی پذیرائی حاصل ہوئی۔ برمنگھم میں 1983ء کی امیر ملت کانفرنس ایک یاد گار اور تاریخ ساز اہمیت کی حامل تھی جس میں اُردو اور انگلش اخبارات کے مطابق چالیس ہزار افراد کا اجتماع تھا، اس کانفرنس میں سونے سے لکھے جانے والے قرآن حکیم کی پہلی بار رونمائی ہوئی‘ اسکے علاوہ کنزالایمان کانفرنس اور پھر ختم نبوت کانفرنسوں کا انعقاد کر کے قادیانیت پر ضرب کاری لگائی۔ یہ کانفرنسیں اب تک مسلسل ہر سال امیر ملت سنٹر شیکسپیئر سٹریٹ برمنگھم میں آپ کی سرپرستی میں منعقد ہو رہی ہیں۔ آپ نے مرزا طاہر کو تین مرتبہ چیلنج کیا، مباحثے اور مناظرے کی دعوت دی لیکن اسے مقابلہ میں آنے کی جرأت نہیں ہوئی۔ پیر سید منور حسین جماعتی کی جانب سے منعقد ہونے والے مذہبی اجتماعات اور کانفرنسوں سے برطانیہ میں موجود مسلمانوں کے ذہنوں میں بیداری آئی، ذکروفکر کی محفلوں سے قلوب روشن ہوئے، روحانی اجتماعات سے ایمانوں میں جلا پیدا ہوئی، حتیٰ کہ ہندو، سکھ اور انگریز تک اپنی پریشانیاں اور مسائل لیکر آپ کے پاس آتے ہیں۔

برطانیہ میں 1977ء تک عیدین منانے کا معاملہ بھی متنازعہ رہا، آپ نے 1978ء میں بریڈ فورڈ میں 80 سے زیادہ علماء و مشائخ کا ایک بہت بڑا اجتماع کیا جس میں سب لوگ ایک فیصلے پر متفق ہو گئے اور کئی سال تک عیدین ایک دن منائی جاتی رہیں۔ آپ نے برطانیہ جا کر روحانی مراکز اور دینی اداروں کی ضرورت محسوس کی تو اس سلسلے میں لندن، برمنگھم، مانچسٹر، بریڈفورڈ اور دیگر شہروں کے یارانِ طریقت اور پیر بھائیوں سے مستقل مشاورت کے بعد متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ پہلا مرکز برمنگھم میں ہونا چاہئے لہٰذا اس سلسلے میں کام شروع کر دیا گیا لیکن عارضی طور پر سب سے پہلا مرکز لندن میں ہی رہا۔ اس دوران آپ نے امریکہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، ہالینڈ، سوئٹزرلینڈ، ڈنمارک، ناروے، پرتگال، افریقہ، مڈل ایسٹ و دیگر ممالک کے تبلیغی دورے کئے۔ 1979ء میں برمنگھم سٹونی لین میں پہلا مرکز قائم کیا جس کا نام امیر ملت سنٹر رکھا، جہاں سے آپ نے دینی تعلیم و تدریس اور تبلیغ و اشاعت اسلام کا کام شروع کیا، یہاں چار سو کے قریب بچے اور بچیاں تعلیم حاصل کر رہے تھے، پھر یہ جگہ کم پڑ گئی، 1984ء کے آخر میں شیکسپیئر سٹریٹ پر ایک بہت بڑی جگہ مل گئی جس کی خریداری میں عوام الناس کی بجائے یارانِ طریقت اور پیر بھائیوں کا تعاون کسی حد تک شامل رہا جوکہ تقریباً چار ہزار پاؤنڈ تھا، باقی تمام رقم آپ نے اپنے وسائل اور ذرائع سے مہیا کی اور یہ جگہ خریدی۔ یہ ادارہ اس وقت ساٹھ ہزار پاؤنڈ کی لاگت سے خریدا گیا جس میں چالیس ہزار پاؤنڈ نقد دیئے گئے اور تقریباً بیس ہزار پاؤنڈ بنک سے قرضہ لیا گیا جسے آپ نے دو تین سال بعد ادا کر دیا، اسکی تعمیر و توسیع پر تقریباً ایک لاکھ نوے ہزار پاؤنڈ خرچ ہوئے‘ یہ تمام رقم بھی آپ نے ذاتی ذرائع اور وسائل سے مہیا کی۔ 14دسمبر 1986ء کو جامع مسجدامیر ملت واسلامک ایجوکیشن سنٹر 21شیکسپیئر سٹریٹ برمنگھم میں خطاب کرتے ہوئے سفیر پاکستان جناب علی ارشد نے کہا کہ گزشتہ دس برس سے یہ دونوں سینٹر حضرت صاحبزادہ مہر الملت پیر سید منور حسین جماعتی اور صاحبزادہ پیر سید خورشید حسین شاہ جماعتی کی سرپرستی میں چل رہے ہیں اور یہ بغیرکسی اور کی مدد کے اپنے پاس سے دونوں سینٹروں میں ڈیڑھ لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ رقم خرچ کر چکے ہیں۔ یہ حضرات برطانیہ سمیت پورے یورپ میں تبلیغ و اشاعت اسلام کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ سفیر پاکستان نے اپنی تقریر میں کہا کہ مجھے اسلام کے ان سفیروں اور امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ صاحب محدث علی پوری رحمۃ اللہ علیہ کے جانشینوں پر فخر اور ناز ہے کہ انہوں نے یورپ اور برطانیہ میں تصوف اور اشاعت اسلام کے حوالے سے شاندار سرانجام دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سونے سے لکھا جانیوالا قرآن پاک ان کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔ (بحوالہ روزنامہ جنگ لندن 16دسمبر 1986ء)۔

اس ادارے نے نومبر 1984 ء میں کام شروع کر دیا تھا‘ امیر ملت یونیورسٹی کے منصوبے پر بھی کام جاری تھا کہ 1988ء میں کمیٹی پھر اختلافات کا شکار ہو گئی اور چند مفاد پرست عناصر نے اس ادارے پر کیس کر دیا جس کا فیصلہ بحمدہ تعالیٰ مارچ 1997ء میں برمنگھم ہائیکورٹ سے آپ کے میں ہوا اور حق کا بول بالا ہوا۔ آپ نے اپنے سنٹر میں مذہبی، دینی اور روحانی پروگراموں کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے جس میں عورتوں، مردوں، بوڑھوں، بچوں اور بچیوں کیلئے مختلف کلاسز شروع کر دی گئی ہیں، اس ادارے کو مزید وسعت دینے کیلئے اسکی شاخیں برمنگھم کے علاوہ دوسرے شہروں میں شروع کر دی ہیں، اسکے علاوہ مستقل بنیادوں پر بچیوں کیلئے فل ٹائم سکول و کالج شروع کر دیا ہے جہاں ان کیلئے دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کا اہتمام بھی ہے۔ اس وقت ان اداروں میں بچوں، بچیوں، مردوں، عورتوں، بوڑھوں اور بالخصوص نوجوانوں کی ذہنی، علمی اور روحانی تربیت کے پروگرام ہو رہے ہیں۔ عورتوں کی الگ محافل ہوتی ہیں‘ بچوں و بچیوں کیلئے الگ سٹڈی سرکل قائم ہیں، تفریحات اور کھیلوں کا بھی انتظام ہے‘ قرآن و حدیث کی تعلیم اور لیکچرز کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے، اسکے علاوہ کمپیوٹر سینٹرز بھی قائم کر دیئے ہیں۔
آپ کے جدامجد حضرت امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ صاحب نے اپنے متعلقین و متوسلین، یاران طریقت، پیر بھائیوں کی کفالت، لنگر شریف کی ضروریات اور دینی اداروں اور مدارس کے قیام کیلئے کروڑوں اربوں کی جائیداد کا ٹرسٹ قائم کر دیا تھا، اسی ٹرسٹ کے نام پر آپ ان اداروں کو برطانیہ میں قائم کیا۔ شیکسپیئر سٹریٹ کا ادارہ جو اس و قت ڈیڑھ ملین پاؤنڈ کا ہے آپ کے نام پر ہے اور ان دونوں اداروں کی رقم آپ نے ذاتی ذرائع اور وسائل سے مہیا کی، اس کو اب امیر ملت ٹرسٹ کے نام وقف کر دیا گیا ہے۔ پاکستان میں بہت سے دینی اور فلاحی ادارے آپ کے زیرسرپرستی چل رہے ہیں جن کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ پیر سید منور حسین جماعتی نے برطانیہ میں بہت سی چیریٹیز کیساتھ منسلک ہونے کے علاوہ پاکستان میں بھی امیر ملت ویلفیئر سوسائٹی قائم کر رکھی ہے جسکے تحت رفاعی منصوبہ جات پر کام جاری ہے اور ہر سال بہت سی غریب اور یتیم بچیوں کی شادیاں کی جاتی ہیں‘ بہت سے سادات گھرانوں کی بچیوں کی شادیاں کرائی جاتی ہیں‘ ہزاروں یتیم طلباء کی کفالت کی جاتی ہے، اسی طرح بہت سے بے سہارا اور غریب خاندانوں کی کفالت کی جاتی ہے، مستحق مریضوں کا علاج کروایا جاتا ہے، بہت سے دینی مدارس اور مراکز کیساتھ تعاون بھی کیا جاتا ہے اور ماہِ رمضان میں بہت سے خاندانوں کی مکمل کفالت کی جاتی ہے۔
پیر سید منور حسین شاہ جماعتی روایتی پیروں میں سے نہیں ہیں جن کا کام صرف نذریں، نیاز حاصل کرنا اور چندے اکٹھے کرنا ہوتا ہے، یورپ اور برطانیہ کے لوگ بخوبی اس بات سے واقف ہیں کہ جب بھی، جہاں بھی تبلیغ و اشاعت اسلام کے سلسلے میں جانی و مالی ضروریات پیش آئیں تو آپ نے کبھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا اور ہر موقع پر بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ آپ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ خدمت اسلام اور خدمت خلق کیلئے وقف ہے۔ غریبوں سے ہمدردی، محتاجوں کی دست گیری اور مظلوموں کی دادرسی ہی آپ کا مشن ہے، آپ اپنے جدامجد حضرت امیر ملتؒ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دینی، مذہبی، قومی، سیاسی، ملی، ملکی اور روحانی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور اسی پاکیزہ مقصد کیلئے آپ نے اپنی زندگی وقف کر رکھی ہے۔